فلاحی اداروں میں عزتیں لوٹی جاتی ہیں،رکشہ ڈرائیور راز دان

لاہور(جیٹی نیوز)گرین ٹاون میں بلقیس ایدھی ہوم میں ایک جواں سالہ لڑکی کائنات  پر اسرار طور پر جاں بحق ہو گئی ۔ کائنات  نے آٹھ ماہ قبل عابد نامی لڑکے سے ادارہ کاشانہ ہوم میں شادی کی تھی۔کائنات شادی کے بعد بلقیس ایدھی ہوم گرین ٹاون میں رہ رہی تھی جبکہ اس کا شوہر عابد اپنے اہلخانہ سمیت پچھلے دوماہ سے گھر سے غائب ہے ۔بتایا گیا ہے کہ کائنات لاوارث ہونے کی وجہ سے ادارہ کاشانہ میں رہتی تھی اور وہاں کی انتظامیہ نے جون 2019 میں اس کی شادی کر دی ،عابد کے مطابق شادی کے ایک ماہ بعد کائنات نے تیزاب پی لیا تھا۔ اس کا کافی عرصہ گنگا رام ہسپتال میں علاج کرواتے رہے۔
بعد ازاں کائنات گل واپس بلقیس ایدھی ہوم گرین ٹاو¿ن چلی گئی،بدھ 5 فروری کی رات اس کی موت واقع ہوگئی تھی ۔کاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کو پہلے گھر سے اغواءکر کے میڈیا پر حکمران جماعت کے ایک وزیر نے اس کے خلاف کم عمری میں شادی کروانے کاالزام لگایا تھا اب اسے قتل کر دیا گیا ہے ۔اس کی اعلی سطحی انکوائری ہو نی چاہئے۔جمعة المبارک کے روز کائنات کا پوسٹ مارٹم ہوا اور اسے سپرد خاک کر دیا گیا۔افشاں لطیف نے انکشاف کیا ہے کہ کائنات سے کئی مرتبہ غیر اخلاقی اور غیر مناسب کام بھی کروائے گئے تھے،انہوں نے کہا کہ میں نے دو ماہ قبل ہی یہ کہا تھا کہ کائنات کو مار دیا جائے گا،وہی ہوا۔
فلاحی اداروں میں آخر ہوتا کیا ہے؟فلاحی ادارے ہی کی ایک خاتون نے جو ادھیڑ عمر کو پہنچ چکی ہے اور اس کی شادی ہو بھی ہو چکی ہے لیکن شوہر چھوڑ کر جا چکا ہے ،اب وہ اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے ،اسے کئی مرتبہ بچوں کا خرچ پورا کرنے کیلئے جسم فروشی کا بھی سہارا لینا پڑا،خاتون نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ فلاحی اداروں میں پلنے بڑھنے والی بچیاں انتہائی نازک ذہن کی مالک ہوتی ہیں،انہیں کسی قسم کا کوئی خوف اور ڈرنہیں ہوتاکیونکہ ان کا کوئی بڑا یا رشتہ دار نہیں ہوتا جسے وہ جواب دہ ہوں،معاشرے کی تنقید ان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی،نجی فلاحی اداروں میں پلنے والی لڑکیاں حالات کے مطابق بہتی چلی جاتی ہیں ،ماحول اور صورتحال انہیں جہاں پہنچا دے وہ اسی کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔بیشتر لڑکیوں کو ان کی سینئرز آزادی کے نام پرجسم فروشی کی طرف راغب کرتی ہیں،مخیر حضرات بھی کسی نہ کسی طریقے سے ان کی عزتوں سے کھیلتے ہیں،خاتون کے مطابق تمام نجی فلاحی اداروں کو فوری بند کر کے حکومت کو خود کفالت کا انتظام کرنا ہی بچیوں کی عزتوں کو محفوظ رکھنے کا آخری حل ہے۔
افشاں لطیف سابق سپرنٹنڈنٹ ان تمام حقیقتوں سے واقف ہے اس کے بعدوہ رکشا ڈرائیور جو ان لڑکیوں کو رات گئے واپس لاتے ہیں ان خفیہ حقیقتوں سے واقف ہیںکہ آخر کا پس پردہ کون کون ملوث ہے،یہی وجہ ہے کہ افشاں لطیف کیساتھ رکشہ یونین کا صدر غوری بھی ہے ،دونوں نے مل کر لاہور ہائیکورٹ میں رٹ کی ہے،دونوں کے پاس بیشمار قیمتی راز ہیں جو منظر عام پر آ گئے تو شاید پورا ایدھی ،کاشانہ ٹLARKIAN JTNONLINEرسٹ ہی اڑ جائیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.