ماﺅں کا سوشل میڈیا کا استعمال، معصوم بچیوں کے ریپ کا سبب،جان کر آپ کانپ جائیں گی

لندن(جیٹی نیوز)ماہرین سماجی امور نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والی تمام ماﺅں کو سخت انتباہ کیا ہے کہ وہ کسی طور پر بھی اپنی 12 برس سے اوپر بچی کی کسی بھی حوالے سے تصاویر کو پبلک شیئر نہ کریں اور نہ ہی اس مقصد کیلئے انسٹا گرام کا استعمال کریں۔ماہرین نے ریپ کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیچھے اصل وجوہات کی جب جانچ پڑتال کی تومعلوم ہوا کہ وہ تمام بچیاں جنہیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا وہ کسی نہ کسی سوشل میڈیا کی ویب پر دیکھی گئی تھیں یوں ہوس کے پجاری افراد جو زیادہ تر رشتہ داریا قریبی دوست تھے ان کو لبھا گئیں۔

ماہرین کے مطابق معصوم بچیاں اپنی ذاتی زندگی میں منظر عام پر نہیں آتیں اور نہ ہی ان کا جسم خوبصورتی کے ساتھ ایکسپوز ہوتا ہے تاہم جب وہ تیار ہو کر سوشل میڈیا پر تصاویر کی زینت بنیں تو نظر میں آ گئیں اور پھر انہیں ہوس کا نشانہ بنانے والوں نے انہیں تاڑ لیا اور ان کی آڑ میں لگ گئے۔ماہرین کے مطابق بہت سے ایسے کیسز میں تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مجرموں نے ہوس کا نشانہ بننے والی بچی کو پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پرہی مختلف پوز میں دیکھا تھااور یوں وہ ان کے من کو لبھا گئیں۔

ماہرین کے مطابق والدین کی ذرا سی غلطی ان کے بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ والدین کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانیوالی تصاویر بہت سی بچیوں کے اغواکا سبب بھی بنی ہیں۔تصاویر میں لوکیشن ،ہیش ٹیگ وغیرہ معصوم بچیوں کی موجودگی کو بھی ظاہر کرتے ہیں جس سے مجرمان فائدہ اٹھاتے ہیںاور کسی نہ کسی طرح ان کے فیملی بیک گراﺅنڈ اور سکول کا پتہ بھی چل جاتا ہے جس سے وہ مصیبت کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ماہرین نے ماﺅں کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی بچیوں کو کسی بھی طور نمایاں نہ کریں،اس سے وہ محفوط رہتی ہیں۔

House women jtnonline3

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.