سکالر نہیں درندہ، مقالے کی خاطر لڑکیوں کی عزت سے ” کھیلتا “رہا

نیویارک (جیٹی نیوز) پہلے اس نے اصرار کیا کہ ہمیں انتہائی خالص دوستی کرنی چاہئے اور وہ اب بیڈروم کے اندرنہیں بلکہ باہر ملنا چاہتا ہے لیکن میں نہیں جانتی تھی کیا میں چوٹ کھانے کے لئے کھڑی ہوں،دراصل میں ایک گرم لڑکے کے دام میں پھنس گئی تھی،میرے جسم کی گرمائش اسے آہستہ آہستہ سراہ رہی تھی لیکن ابھی تک بوسہ کنار کے علاوہ بات آگے نہیں بڑھی تھی یا پھر میں نے خود ہی اسے آگے بڑھنے نہیں دیا تھا،اس نے بھی مجھے اس بات پر کبھی مجبور نہیں کیا کہ میں اس کیساتھ جسمانی تعلقات استوار کروں،بات بڑھتی گئی اور ہم ایک ماہ میں گاہے بگاہے پھیکی ڈیٹ پر جاتے رہے حالانکہ اس سوسائٹی میں ایسے تعلقات کو رکھنا ذرا بھی مشکل نہ تھا۔

میں 26 سال کی دوشیزہ تھی اور وہ 27 برس کا ایک سکالرر ٹائپ پڑھا لکھا دیو ہیکل نوجوان تھا،وہ جب میرے ساتھ چلتا تھا تو میں لوگوں کے ہجوم میں نہ صرف فخر محسوس کرتی تھی بلکہ ایک تحفظ کا احساس بھی مجھ پر غالب رہتا تھا کیونکہ ایک دو مرتبہ چند شرارتی لڑکوں نے پیزا شاپ کے باہر مجھے دیکھ کر تنگ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جیسے ہی وہ شاپ سے باہر نکل کر میرے قریب آیا ان بیچاروں کی تو آہ ہی نکل گئی اور وہ فوراً فرو چکر ہو گئے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا سٹڈی کررہا ہے؟ پھر یوںہی 2 سال گزر گئے اور آخر ایک دن اس نے مجھ سے جسمانی تعلق قائم کرنے کی بات کہہ ڈالی۔

یک دم مجھے احساس ہوا کہ مجھے میری زندگی کا سب سے خوبصورت ساتھی مل گیا ہے اور دوسرے ہی لمھے مین میری ساری خوشی غارت ہو گئی جب اس نے کہا کہ وہ ایک ہی وقت میں مختلف دوستوں کیساتھ تعلقات رکھنے کا قائل ہے اور وہ پابند نہیں رہ سکتا۔میںنے ہاں کرنے کیلئے اس سے وقت مانگ لیا اور پھر تین دن اور تین راتیں سو سکی نہ مناسب طریقے سے کھا سکی ۔ایک طرف اس کی وجاہت،اور میری جوانی تڑپ رہی تھی اور تقاضا کر رہی تھی کہ اس میں کیاہے ؟اگر وہ چھوڑ بھی جائے تو کیا ہوگا؟ دوسری طرف میری انا اور اصول آڑے آ رہے تھے،پھر چوتھے دن میں نے اسے اپنا وجود پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا،دوسرے لفظوں میں اس کے وجود کے نیچے خود کو محسوس کرنا چاہتی تھی۔

میں نے اسے فائنل ڈیٹ کا وقت دیدیا،وہ مقررہ دن وقت پر مجھے گاڑی پر لینے آیا ،انتہائی سمارٹ دکھ رہا تھا،میں خود بھی کسی سے کم نہ تھی ،ہم ایک مہنگے ولاے ہوٹل میں گئے،خوب انجوائے کیا اور پھر سونے کیلئے ایک کمرے میں چلے گئے،میں حد سے زیادہ نروس ہوتی چلی جا رہی تھی،خون سرخ رنگت میں میرے چہرے ،ناک اور کانوں پر اترآیا تھا،میرا وجود دک رہا تھا اور اوپر سے الکوحل بھی اپنا خوب رنگ دکھا رہی تھی۔ آخر کار وہ گھڑی آ ہی گئی اور پھر زندگی بھر کے تسکین آمیز لمحات عطا کر کے چلی گئی۔وہ کمال کا محبت کرنے والا انسان تھا۔

ہم دوبارہ ایک ہفتے بعد ملے ،نہ چاہتے ہوئے بھی ایک سنسان جگہ پر دو جسم ایک جان ہو گئے،یہ تجربہ بھی پہلے کی طرح انتہائی دل آمیز تھا۔پھر اچانک وہ مجکھے چھوڑ کر چلا گیا،اس کا فون بھی ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا،وہ ایک خوبصورت درندہ تھا جس نے محض اپنی تحقیق کی خاطر میری زندگی کو روند ڈالا۔اس نے جانے سے پہلے مجھے ایک ٹائپ شدہ لیٹر دیا جس میں لکھا تھا کہ اس نے مجھے اپنی تحقیق اور مقالے کیلئے استعمال کیاتھا۔اس کے مختلف لڑکیوں کیساتھ بھی تعلقات تھے اور اس نے ان میں سے صرف ایک لڑکی کا انتخاب کیا تھا جس کو اس نے تمام سچائی بھی بتا دی تھی اور وہ بھی اس کیساتھ رہنے میں خوش تھی۔

اس نے خط میں لکھا کہ یہ صرف اتنا ہے کہ میں اس “گیم” کو جیتنا چاہتا ہوں ، مجھے اس میں حقیقی دلچسپی ہے۔اس درندے کے بقول جو کچھ اس لڑکی میں تھا وہ مجھ میں نہیں تھا۔اس نے ایک بار بھی خط میں معافی یا شرمندگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔میں آج بھی خود کو آئینے میں دیکھ کر سوچتی ہوں کہ آخر کس چیز کی مجھ میں کمی تھی جو اس نے مجھے مسترد کر دیا یا پھر وہ انتہائی جھوٹا اور مکار تھا ،اس کے اس اقدام سے مجھے سکالر اور محقق افراد سے نفرت ہو گئی تھی ۔

shameless jtnonline

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.