کرونا کی انوکھی منطق،عورتوں کا عاشق ،تمباکونوش مردوں کا دشمن

لندن(جیٹی نیوز) کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کے حوالے سے دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس موذی وائرس کا90 فیصد سے زائد مرد حضرات شکار ہوئے ہیں جبکہ 10 فیصد تعداد ان خواتین کی ہے جن کی عمر65 برس سے بھی زائد بتائی گئی ہے۔ امریکی میڈیا سی این این کی رپورٹ کیمطابق مرنیوالے تمام مرد شراب اور سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا تھے اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہ تھی۔رپورٹ کے مطابق اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ (آئی ایس ایس) کے مطابق کرونا کا شکار 70 فیصد سے زائد مرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ مرنیوالوں کے بنیادی اعداد و شمار کو جاری نہیں کررہی ہے ۔اس میں تقریباً 90 فیصد مرد کرونا وائرس کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر چکے ہیںاور مردوں کو ہی اس وائرس کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ سی این این کے مطابق امریکی مراکز سے جنسی طور پر ڈیٹا مانگا جا رہا ہے جو کہ مہیا نہیں کیا جا رہا کہ کتنے مرد اور عورتیں اس کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں،ادھر برطانیہ میں بھی مرنیوالوں میں چند خواتین کے علاوہ سبھی مرد ہیں۔ چین ، فرانس ، جرمنی ، ایران اور اٹلی میں بھی مرد ہی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں .

صرف جنوبی کوریا میں مرنیوالوں کی تعداد میں خواتین شامل ہیں یعنی کہ وہاں کرونا وائرس کا شکار صرف خواتین ہی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کسی بھی ملک میں مردوں کے مقابلہ میں خواتین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں ۔ صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کا طرز عمل صنف نما طرز عمل ہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مرد زیادہ  پھیپھڑوں کی دائمی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ٹیکساس میں یوتھ ہیلتھ کے میک گورون میڈیکل سکول کی تحقیق کے مطابق بھی کرونا وائرس مردوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں۔

ایک ارتقائی نقطہ نظر سے ، کچھ تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں وائرل انفیکشن کے خلاف زیادہ مضبوط مدافعتی ردعمل رکھتی ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی کا کچھ حصہ غیر جسم یعنی ان کی اولاد کے ساتھ گزارتی ہیں، اس طرح انہیں زندہ رہنے کا فائدہ دیتے ہیں۔ اس کا تعلق ہارمونز کی تبدیلیاں بھی ہوسکتا ہے۔کرونا سے متاثرہ افراد کی ابتدائی اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرد حضرات ہائی بلڈ پریشر ، قلبی بیماریوں اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں ۔مرد اپنی زندگی مختلف طریقوں سے گزارتے ہیں۔

ان کا طرز عمل زیادہ جارحانہ ہوتا ہے۔وہ تمباکو نوشی کرتے ہیں اور شراب بھی زیادہ پیتے ہیں ۔چین ،اٹلی اور ایران میں مردوں کی تمباکو نوشی حد سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ چین میں تقریبا 31 316 ملین مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے۔نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ (آئی ایس ایس) کے جاری کردہ 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں ساڑھے 7 لاکھ مرداور4 لاکھ خواتین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

hot news jtnonline

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.