مسلسل ماسک اور دستانے پہننے سے نرسوں کو خارش پڑ گئی،انتہائی دلدوز انکشافات

لوگ چند گھنٹے بھی مسلسل ماسک اور دستانے نہیں پہن سکتے

 

لندن(جیٹی نیوز) برطانیہ میں کرونا وائرس کےخلاف ہسپتال میں نبرد آزما ایک بہادر نرس نے مقامی اخبار کو روتے ہوئے اپنی بپتا سنائی اور بتایا کہ کس طرح اسے 8 گھنٹے کی بجائے 13 گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ماریا نامی نرس لندن کے رائل برومٹن ہسپتال میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے، اس سے 13 گھنٹے ڈیتھ وارڈ یعنی کرونا کے مریضوں پر مشتمل انتہائی نگہداشت وارڈ مین کام لیا جا رہا ہے ۔

ماریہ نے لندن کے ایک آئی سی یو وارڈ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مدد کرنے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مریضوں اور سٹاف سے پیار کرنے کے باوجود اس کیساتھ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے اور جیسے ہی وہ اپنے قدم یونٹ میں رکھتی ہے اس کے اندر شدید گھبراہٹ کے آثار پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جبکہ تمام سینئر عملہ باہر پرسکون انداز میں سب کچھ واچ کر رہا ہوتا ہے ۔اس نے بتایا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر میدان جنگ میں اتر آئی ہے ۔ اس نے حقیقت کے قریب ترین انکشاف کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عورت 13 گھنٹے مسلسل ماسک پہنے رکھے اور دستانے چڑھائے رکھے،یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا سمجھا جا رہا ہے۔

گھروں سے باہر نکلنے والے لوگ چند گھنٹے بھی مسلسل ماسک اور دستانے نہیں پہن سکتے وہ تو ایک کمزور سی عورت ہے اور اس کیساتھ یہ بہت بڑی نا انصافی ہے۔نرس نے روتے ہوئے بتایا کہ مسلسل احتیاطی تدابیر اور لباس نے اسے ذہنی مریض بنا دیا ہے۔گھر آتے ہی وہ بےہوش ہو جاتی ہے۔اس کے ناک ، کانوں اور ہاتھوں پر سرخ نشانات ابھر آئے ہیں اور ان پر خارش ہونا شروع ہو گئی ہے۔اتنا پانی تین ماہ میں نہیں پیا جتنا تین دن میں پی لیتی ہوں ۔

working women jtn

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.