بورے والا،13 سالہ گھریلو ملازمہ پر مالکن کا شدید تشدد،اللہ کو پیاری ہو گئی

بورے والا(جیٹی نیوز)13 سالہ گھریلو ملازمہ کو اہلخانہ نے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی ۔تشدد کے باوجود بچی کی زندگی بچ سکتی تھی لیکن اہلخانہ نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے زخمی حالت میں گھر کے صحن میں دھکا دیا جس کے باعث اس کی حالت غیر ہو گئی اور وہ چند لمحوں میں اپنی سانسیں گنوا بیٹھی۔پولیس نے تشدد کی اس بہیمانہ واردات پر ملوث افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیاہےبتایا گیا ہے کہ بورے والہ کے نواحی گاﺅں میں جہانگیر نامی ایک شخص نے اپنی غربت سے تنگ آ کر علاقے کے بااثر اور امیر شخص فدا سے مبلغ 60 ہزار روپے قرض اٹھایاتھا۔

عرصہ گزرنے کے باوجود جہانگیر قرض واپس نہ کر سکا تو فدا نے اس پر دباﺅ ڈالا کہ یا تو قرض کی رقم واپس کرے یا پھر قانونی کارروائی کیلئے تیار رہے۔غربت کا شکار جہانگیر کی حسب روایت اپنی کم سن بچی صابرہ پر نظر پڑی ،اس نے محض 60 ہزارکے عوض اسے فدا کے گھر میں بطورملازمہ رکھوا دیا۔گھر کی مالکن نے صابرہ کیساتھ انتہائی ناروا سلوک روا رکھا ،بچی نے اکثر و اوقات اپنے والد اور والدہ سے اہلخانہ کی شکایت بھی کی لیکن انہیںاپنی لخت جگر سے زیادہ پیسے عزیز تھے ،دوسرا ان کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی جو دے کر اپنی بچی صابرہ کی جان چھڑا سکتے۔

اہل خانہ نے بچی پر تشدد جاری رکھا اور اس سے ضرورت سے زیادہ گھر کے کام کاج بھی کرواتے رہے ۔اس دوران صابرہ سے ایک معمولی غلطی سرزر ہو گئی جس پر گھر کی مالکن نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور زخمی حالت میں اسے صحن میں دھکا دیدیا جس پر وہ ننھی جان ہلاک ہو گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم فدا کی بیوی نے صابرہ کوحسب روایت تشدد کا نشانہ بنایااور نیم بے ہوشی کی حالت میں اسے صحن میں دھکا دیا۔صابرہ تشدد برداشت نہ کرتے ہوئے جاں بحق ہو گئی۔

crimnal women jtn3

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.