برطانیہ میں لاک ڈاﺅن کے دوران گھریلو تشدد پر حکومت چکرا گئی،14 عورتیں ،2 بچیاں قتل

لندن (جیٹی نیوز) کرونا وباءسے جاری لاک ڈاﺅن عرصہ میں گھریلو تشدد کے واقعات پر پوری دنیا کی حکومتیں پریشان ہو کر رہ گئی ہیں صرف برطانیہ میں لاک ڈاﺅن کے معمولی عرصہ میں 14 خواتین اور 2 بچوں کو قتل کر دیا گیا ۔ برطانوی کی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ اعدادوشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاو¿ن کے دوران گھریلو زیادتی کے واقعات میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔کاو¿نٹنگ ڈیڈ ویمن پروجیکٹ کے محققین نے ممبران پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے پہلے تین ہفتوں میں 14 خواتین اور دو بچے قتل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 42 سالہ رابرٹ نامی آدمی نے مغربی سسیکس میں اپنی ساتھی کیلی اور 2 بچیوں آوا اور لیسی کو گولی مار کر قتل کر ڈالا۔واقعہ پر پولیس نے تفتیش شروع کر رکھی ہے ابھی تک ملزم کے خلاف مکمل چارج شیٹ پیش نہیں کی گئی۔

انہوں نے معزز ممبران کو بتایا کہ 11 سال تک کسی بھی تین ہفتوں کی مدت میں سب سے زیادہ قتل غارت ہوئی ہے۔چونکانے والی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ کورونالاک ڈاﺅن کے باعث گھریلو تشدد پر ہیلپ لائن پر آنے والی کالوں میں بھی 49 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔خواتین چیخ چیخ کر بتاتی ہیں کہ ان کا مرد ساتھی انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔23 مارچ کو لاک ڈاو¿ن متعارف کرائے جانے کے کچھ ہی دن بعد ، ہیمل کے علاقے میںایک گھر میں آگ لگ گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ سفاک شخص نے گھر کو آگ لگانے سے پہلے اپنی ماںاور بیٹی کو چاقو مار کر قتل کر دیا تھا اور بوڑھے والد کو گھر میں آگ لگا کر زندہ جلا ڈالا۔لاک ڈاﺅن کے دوران یہ قتل و غارت گری کا سب سے سنگین واقعہ سمجھا جاتا ہے اور عام حالات میں بھی ایسے واقعات دیکھنے میں نہیں آتے۔

ایک ملزم گیری نے اپنی بیوی 50 سالہ کیرولن اور 24 سالہ بیٹی کیٹی کو چھریاں مار کر قتل کیا۔کورونا وائرس لاک ڈاون شروع ہونے کے بعد حکومت کو اب گھریلو زیادتیوں اور تشدد سے نمٹنے کے لئے ایک مکمل ایکشن پلان کے لئے ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے مطالبات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خواتین ہوم افیئرز کمیٹی نے متنبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، مقامی کمیونٹیاں آنے والی نسل کے تباہ کن نتائج سے نمٹنے کے لئے کام کریں گی۔پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا گیا کہ اگر اب بھی ہم اس سے نمٹنے کے لئے کام نہیں کرتے تو ہم آنے والے کئی سالوں تک بڑھتی ہوئی زیادتی کے نتائج کو محسوس کریں گے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ ماہ لاک ڈاون پابندیوں کے نافذ ہونے کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی گھریلو زیادتی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

jtn innocent women

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.