ماں نے11 سالہ بیٹے کو زہر کھلا کر مار ڈالا لاش ویرانے میں پھینک دی

برازیلیا(جیٹی نیوز) سننے میں شاید یقین نہیں آتا لیکن برازیل کے شہر ریو گرانڈے ڈول سل کے قصبہ پلانا لٹو میں ایک ماں نے ہائی پوٹینشل دوائیں کھلا کر اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دیا پھر اس کی ڈیڈ باڈی کو ایک چادر سے لپیٹا اور گھر سے باہر دوردراز کہیں پھینک دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سفاک خاتون ڈوگوکینسکی نے 16 مئی کے روز پولیس کو بتایا کہ وہ صبح بستر سے اٹھی تو اس کا بیٹاغائب تھا۔پولیس نے خاتون کی درخواست پر کارروائی شروع کر دی۔تفتیش آگے بڑھتی گئی لیکن ایک ہفتے تک پولیس کو کوئی سراغ نہ ملا۔ بالآخر پولیس کے اعلیٰ حکام نے بچے کی گم شدگی کو سنجیدہ لیتے ہوئے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ۔

اہلکاروںنے گھر کے ہر فرد سے نہ صرف پوچھ گچھ کی بلکہ گھر کے کونے کھدروں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا تو اس دوران انہیں گھر کے فرش پر خون کے کچھ دھبے دکھائی دئے۔ماہرین نے مزید کارروائی کرتے ہوئے بچے کی ماں کی گاڑی کا معائنہ کیا تو انہیں وہاں بھی خون کے نشانات دکھائی دئے۔

دوسری جانب بچے کی والدہ کا مسلسل اصرار تھا کہ اس کا بچہ اپنے کمرے میں اکیلا سو رہا تھا اور اچانک لاپتہ ہو گیا،وہ ضرور گھر سے بھاگ گیا تھا۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے خاتون کا موقف غلط جانتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا ، انکوائری کی تو اس نے اپنے بچے کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

اہلکاروںنے ملزمہ کی نشاندہی پر ایک خالی مکان سے بچے کی نعش برآمد کر لی۔بچے کی لاش گمشدگی رپورٹ درج ہونے کے دسویں روز ملی۔ملزمہ نے بتایا کہ اس نے اپنے بیٹے کو زبردستی سخت دوائیں کھلائیں جسے کھانے سے اس نے انکار کیالیکن اس نے زبردستی اسے کھلا دیں ،کچھ ہی لمحوں بعد اسے خون کی الٹیاں ہوئیں اور وہ ہلاک ہو گیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.