دودھ پلانے والی خواتین ذیابیطس سے محفوظ رہتی ہیں؛ ماہرین

اسلام آباد(جیٹی ہیلتھ نیوز ) امریکہ میں ہونے والے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین جتنے عرصے تک اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے اور اس عمل کا اثر عشروں تک برقرار رہتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ماو¿ں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کم سے کم چھ ماہ تک دودھ ضرور پلائیں تو یہ خود شیرخوار بچوں کےلئے بھی بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس سے بچے کے کان اور سانس کے نظام میں انفیکشن، اچانک موت، الرجی، ذیابیطس، اور موٹاپے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل کئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ دودھ پلانے والی خواتین میں ڈپریشن، موٹاپے اور کئی اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
ماہرین طب نے اس ضمن میں جائزے کیلئے 1238 خواتین کا مطالعہ اس وقت کیا جب انہیں ذیابیطس لاحق نہ تھی۔ اس کے 25 سال بعد ان خواتین سے دوبارہ رابطہ کیا گیا جن میں سے 182 خواتین کو ذیابیطس ہو چکی تھی۔ ان کا موازنہ بچوں کو دودھ نہ پلانے والی خواتین سے کیا گیا تو کم سے کم 6 ماہ تک اپنے نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلانے والی ماو¿ں میں ذیابیطس کا خطرہ 48 فی صد کم نوٹ کیا گیا۔
یہ تحقیق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوک لینڈ کی خاتون ماہر ایریکا گنڈرسن نے کی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’اس سے قبل خواتین میں دودھ پلانے کے جو فوائد سامنے آئے ہیں، یہ ان سب میں سے بہتر اور نمایاں ہے۔ سروے شروع ہونے سے قبل خواتین کا کم ازکم ایک بچہ تھا اور ان میں سے اکثریت نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا تھا۔ 1200 سے زائد خواتین میں سے 418 (34 فیصد) خواتین نے نومولود کو چھ ماہ تک دودھ پلایا۔ دوسرے گروپ میں 268 (22 فیصد) خواتین نے چھ سے بارہ ماہ تک بچوں کو دودھ پر رکھا جبکہ 230 یا 19 فیصد خواتین نے اپنے بچوں کو ایک سال سے زائد عرصے تک دودھ پلایا۔
ماہرین نے محتاط اندازہ لگایا ہے کہ جو خواتین اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں، ایسی ہر 1000 میں سے 10 خواتین ہر سال ذیابیطس میں مبتلا ہوجاتی ہیں، البتہ اگر چھ ماہ تک دودھ پلانے والی خواتین کی بات ہو تو یہ شرح گر کر سالانہ 7 کیس فی 1000، ایک سال تک دودھ پلا نے والی ماو¿ں میں 7 فی ہزار سے کم، جبکہ اس سے زائد عرصے تک دودھ پلانے والی خواتین کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی سالانہ شرح 4 فیصد 1000 یا اس سے بھی کم نوٹ کی گئی۔ بلاشبہ یہ بہت زیادہ فرق ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خواتین اپنے بچوں کو ایک سال تک دودھ پلائیں تو ان میں ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوسکتا ہے ۔تاہم دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ دودھ پلانے کے فوائد اپنی جگہ لیکن دودھ نہ پلانے والی مائیں بھی باقاعدہ ورزش، طرزِ زندگی میں تبدیلی اور غذاو¿ں کےذریعے شوگر کے خطرات کو کم کرسکتی ہیں۔

breast feeding
Mother breast feeding baby

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.