ایتھوپیا میں بھوک کے سائے سمگلروں کی موجیں ماﺅں کی بچوں سمیت ہجرت

ادیس ابابا(جیٹی نیوز)ہر سال دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ غربت ، تشدد ، تنازعات اور بدسلوکی سے تنگ آ کر اپنے آبائی علاقوں سے کوچ کر لیتے ہیں یا پھر فرار ہو جاتے ہیں اور یہ سفر زیادہ تر خوفناک ثابت ہوتا ہے۔ غیر قانونی ہجرت کرنے والے بہت سے لوگ ٹرکوں یا ٹرالوںمیں چھپ کرسفر کرتے ہیں اس دوران سانس گھٹنے سے بے شمار اموات واقع ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے افراد پیدل صحرا پار کرتے ہیںیا پھر سمندر سے سفر اختیار کیا جاتا ہے ۔

انسانی سمگلر پیسوں کی خاطر معصوم زندگیوں سے کھیلنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑتے۔ بہتر زندگی کی تلاش میں خطرناک سفر کرنے والوں میں بہت سے ایتھوپیا کے مرد ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ان میں سے کچھ صومالیہ اور جبوتی کا سفر اختیارکرتے ہیں ۔ 2019 میں یمن جانے والے ایک لاکھ اڑتیس ہزارافرادنے سمندر کے انسانی سمگلروں کی خدمات حاصل کیں۔ جبوتی ایتھوپیا سے متصل وسیع صحرا اور صومالی قصبوں میں ہے۔

ہزاروں افراد میں سے بہت سے نابالغ ہیں خوفزدہ ، حیرت زدہ صحراﺅں میں سفر کرتے دکھائی دئے ہیں۔اٹھارہ سالہ ایتھوپیا کی زینبہ صومالیہ سے آئی تھی ، یمن ، اس کے بعد سعودی عرب جانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ وہ سفر کے دوران پھنس گئیں۔ انسانی سمگلنگ میں ملوث مافیابعض افراد اور لڑکیوں کو دبئی لے گیا۔ان میں سے ایک بچہ بھی شامل ہے جس نے اپنے والدین کو بھی نہیں بتایا اور انسانی سمگلروں کے ساتھ ملازمت کے حصول کے لئے دبئی چلا گیا ۔

بچے نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ اس نے ہجرت اس لئے کی کہ وہ دیکھتا تھا کہ کس طرح اس کے والدین اس کے کھانے پینے کیلئے جدوجہد کرتے تھے اور یہ بڑا تکلیف دہ تھا۔ انیس سالہ ایتھوپیا کی دیدہ بھی صومالیہ سے آئی تھی کہ وہ یمن اور پھر سعودی عرب جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ وہ راستے میں پھنس گئی تھی، وطن واپس آنے کے لئے اس نے آئی او ایم کی مددلی۔ سترہ سالہ حمزہ ان میں سے ایک ہے جو یورپ جانے کے خواب دیکھتا تھا ۔اس نے چھوٹی عمر میں ہی گھر بار چھوڑ دیا تھا۔

families are moving to saudi arab for better life

اس سے انسانی سمگلروں نے رقم لی اور اسے یورپ جانے والی ایک کشتی پر بٹھایا۔ کوسٹ گارڈنے اسے پکڑ لیا اور اسے قید میں ڈال دیا گیا آخر کار اسے واپس صومالیہ بھیج دیا گیا۔ وہ انجینئر بننے کے لئے اب کالج میں زیر تعلیم ہے۔ خلیج میں کام تلاش کا جھانسہ دینے والے سمگلروں کے ایک گروپ میں چودہ سالہ کمیلیا بھی شامل تھا وہ جیسے ہی بندر گاہ بوساسو پہنچا، اسمگلر وںنے اس کے گھر والوں کو مزید رقم کیلئے فون کیا۔زائد رقم نہ ملنے پر وہ سمندررمیں ہی بھٹکتا رہا۔

smuggled girls in dubai out of sex cafe

رومن ایتھوپیا سے اس وقت بھاگ گئی جب وہ 18 سال کی تھی۔ محفوظ زندگی بنوانے کی امید میں وہ صومالیہ پہنچ گئی۔ چھوٹی عمر میں ہی وہ بیوہ ہو گئی تھی۔ اس نے ایک اور شخص سے شادی کی ، اور اس کے دو اور بچے بھی ہیں۔بچوں کو کھانا کھلانے کی خاطر وہ یمن کے راستے صومالیہ پہنچ گئی۔ جس وقت اس نے ایتھوپیا سے ہجرت کی اس وقت وہ اٹھارہ برس کی تھی۔بقول اس کے اگر وہ ہجرات نہ کرتی تو اس کے بچے بھوکے مر جاتے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.